48

طیارہ حادثہ؛ فرانسیسی ماہرین کی ٹیم کا پاکستان میں قیام 5 روز تک بڑھادیا گیا

پی آئی اے طیارے کے حادثے کی تحقیقات کے لیے پاکستان پہنچنے والی ائربس کی ٹیم کا قیام 5 روز تک بڑھادیا گیا۔

پی آئی اے طیارے کے حادثے کی تحقیقات کے لیے گزشتہ روز پاکستان پہنچنے والی معروف طیارہ ساز کمپنی ایئربس کے ماہرین پر مشتمل 11 رکنی فرانسیسی ماہرین کی ٹیم نے جائے حادثہ پر منفرد انداز میں تحقیق کی۔

ایئربس کے ماہرین نے فرانس سے کراچی پہنچنے پر طیارے کو رن وے پر لینڈ کرنے کے بجائے فنل ایریا کے چکر لگائے اور لینڈنگ اپروچ کے بعد فضاؤں میں 2 مرتبہ گو راؤنڈ کا عمل دہرایا۔گوراؤنڈ یعنی جہاز کو لینڈ کرنے کے بجائے چکر لگانے کے عمل کا مقصد تباہ ہونے والے طیارے کے گرنے سے پہلے فرضی عمل کو دہرانا تھا۔ ایئربس طیارے نے اس عمل کے دوران 13 منٹ کے اندر گو راؤنڈ کو مکمل کیا۔

ایئربس کا پاکستان میں موجود قیام 5 روزتک بڑھادیاگیا ہے۔ ایئر بس کی ٹیم کی تحقیقات کا دائرہ آج صبح مزید وسیع کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق غیرملکی تحقیقاتی ٹیم بدھ کی صبح دوبارہ جائے حادثہ کا دورہ کرے گی اور تباہ شدہ جہاز کے ملبے اور آلات کے نمونے بھی تحقیق کی غرض سے لیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ جائے حادثہ پر دوبارہ تحقیقاتی عمل کے دوران ڈرون کیمروں کی مدد بھی لی جائے گی۔

واضح رہے کہ 22 مئی کو لاہور سے کراچی آنے والا طیارہ پی کے 8303 کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اترنے سے کچھ منٹ قبل ہی تکنیکی خرابی کے باعث قریبی آبادی میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ طیارے میں میں 99 افراد سوار تھے، جن میں سے 97 افراد جاں بحق جب کہ دو افراد معجزانہ طور پر بچ گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں