49

شرجیل خان کی مخالفت ،حفیظ کو’’یھارتی ‘‘حمایت مل گئی

شرجیل خان کی قومی ٹیم میں واپسی کی مخالفت کرنیوالے پاکستانی آل راؤنڈر محمد حفیظ کو بیرون ملک سے حمایت مل گئی ،سابق بھارتی کرکٹر آکاش چوپڑا کا کہنا ہے کہ پروفیسر کی رائے کا احترام کرنا چاہئے کیونکہ انہوں نے بالکل درست سوال اٹھایا ہے،ایک،دو باصلاحیت کھلاڑیوں سے محروم ہو جائیں لیکن وقار کو نظر انداز کرنے پر کچھ بھی باقی نہیں بچتا،داغدار پلیئرز کو واپسی کیلئے ہرگز خوش آمدید نہ کہا جائے ۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کنگز کے اوپننگ بیٹسمین شرجیل خان کی قومی ٹیم میں ممکنہ واپسی کا معاملہ بحث و مباحثے کا باعث بن گیا ہے کیونکہ محمد حفیظ نے اپنے ٹوئٹ میں سوال اٹھایا تھا کہ کیا قومی ٹیم میں انتخاب کیلئے کسی اضافی ٹیلنٹ کے بجائے فخر اور وقار کا معیار مقرر نہیں ہونا چاہئے جسکے جواب میں چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان نے اپنی ویڈیو کانفرنس میں پروفیسر کی سرزنش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دوسروں سے متعلق رائے دینے کے بجائے اپنی کرکٹ پر توجہ دیں کیونکہ وہ اس بات کا اختیار نہیں رکھتے کہ سوشل میڈیا پر پی سی بی کی پالیسیوں پر تنقید کیساتھ دوسرے کھلاڑیوں پر سوال اٹھائیں کیونکہ دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا ہے ۔
سابق بھارتی کرکٹر آکاش چوپڑا نے اپنی یو ٹیوب ویڈیو میں محمد حفیظ کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی رائے کا احترام کرنا چاہئے کیونکہ انہوں نے بالکل درست سوال اٹھایا ہے ورنہ لوگ آج کل ایسے موضوعات پر بات نہیں کرتے جو درحقیقت ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ محمد حفیظ کو اپنی بات کہنے کا ڈھنگ آتا ہے جنہوں نے بڑا سادہ سا سوال کیا ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کے انتخاب کیلئے کیا چیز اہمیت کی حامل ہونا چاہئے اور وہ بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک،یا دو باصلاحیت کھلاڑیوں سے خواہ محروم ہو جائیں لیکن قومی فخر اور وقار کو نظر انداز کرنے پر کچھ بھی باقی نہیں بچتا اور اس اعتبار سے دیکھا جائے تو محمد حفیظ نے بہت اچھا نکتہ اٹھایا ہے ۔
آکاش چوپڑا کا کہنا تھا کہ داغدار پلیئرز کو واپسی کیلئے ہرگز خوش آمدید نہ کہا جائے کیونکہ زندگی دوسرا موقع ضرور دیتی ہے جو لازمی طور پرملنا چاہئے جوکسی اور شعبے میں ہو تو زیادہ بہتر ہے مگر یہ دوسرا چانس کھیل میں قطعی نہیں ہونا چاہئے ۔ یاد رہے کہ 2015ء میں بھی سپاٹ فکسنگ میں ملوث فاسٹ باؤلر محمد عامر کی قومی ٹیم میں واپسی پر محمد حفیظ کو اسی قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے یہ بیان دے ڈالا تھا کہ وہ کسی ایسے کھلاڑی کیساتھ ڈریسنگ روم شیئر نہیں کر سکتے جس نے ملک کی ایمانداری اور سچائی کو داؤ پر لگایا ہو اور محمد حفیظ کو اپنا کیریئر بچانے کیلئے اس وقت کے چیئرمین شہریار خان کی بات مانتے ہوئے اس معاملے پر اختلاف ختم کرنا پڑا تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں